ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / علماء اگر آئی پی سی کے فیصلے دینے لگیں تو کیا یہ درست ہوگا؟ حجاب ضروری ہے یا نہیں یہ بتانا جج صاحب کا کام نہیں:ڈاکٹر ایس وائی قریشی کا بیان

علماء اگر آئی پی سی کے فیصلے دینے لگیں تو کیا یہ درست ہوگا؟ حجاب ضروری ہے یا نہیں یہ بتانا جج صاحب کا کام نہیں:ڈاکٹر ایس وائی قریشی کا بیان

Sun, 27 Mar 2022 06:52:35    S.O. News Service

بھوپال،27؍مارچ(ایس او نیوز؍ایجنسی) معروف ہندی روزنامہ دینیک بھاسکرنے سابق الیکشن کمشنر ڈاکٹر ایس وائی قریشی سے مسلمانوں کی آبادی، تعدد ازدواج، طلاق ثلاثہ، لوجہاد، حجاب اور کشمیری پنڈتوں کے مسائل پر گفتگو کی جس پر انہو ں نے سلسلہ وار جواب دیا جب ان سے حجاب کے تعلق سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ قرآن میں کہاگیاہے کہ مرد عورت دونوں کو مناسب کپڑے پہننے چاہئیں، کالج میں پابندی کی بات ہوئی، لیکن وہاں تو یونیفارم نہیں ہوتا، اسکول یونیفارم میں سکھوں کی پگڑی، سندور کی اجازت ہے تو پھر حجاب سے کیسی پریشانی، حجاب ضروری ہے یا نہیں یہ جج صاحب تھوڑی بتائیں گے، یہ مولانا بتائیں گے، علماء آئی پی سی کے فیصلے دینے لگے تو کیا یہ درست ہوگا؟

انہوں نے لو جہاد پر کہاکہ میرے اور میری اہلیہ کے درمیان لوجہاد ہے، میرے گھر میں بیٹیاں بھی لو جہاد کرتی ہیں، محبت کی کوئی سرحد نہیں، ویسے لو جہاد سے مسلمان لڑکیاں سب سے زیادہ نقصان میں ہے، پڑھے لکھے مسلمان لڑکوں کو ہندو پڑھی لکھی لڑکیاں اڑا لے جاتی ہیں، مسلمان عورتوں کے اینگل سے اسے کسی نے دیکھا ہی نہیں۔

انہوں نے طلاق ثلاثہ پر قانون کے اثر کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ جو جاہل ہیں وہی تین طلاق کہتے ہیں، تین طلاق کا مسلمان عورتوں کو نقصان ہی ہوا ہے شوہر کو جیل ہوئی تو بچے بھوکے مرجائیں گے۔انہوں نے کشمیری پنڈتوں کے تعلق سے کہاکہ پنڈتوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے یہ سچ ہے لیکن پنڈتوں کو مارا تو مسلمانوں کو بھی مارا، انسانیت سے مطلب ہونا چاہئے، مذہب سے نہیں یہ تو وہی ہوا کہ جو کام دہشت گرد کرناچاہتے تھے وہ کام اب یہ فلم میکر کررہے ہیں عوام کو تقسیم کررہے ہیں۔

انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ یوگی کی جیت فرقہ پرستی کی جیت ہے، پولرائزیشن گزشتہ بیس برسوں سے چناوی ہتھکنڈہ ہے حالات یہ ہیں کہ دو بچے بھی آمنے سامنے لڑرہے ہوں تو اسے پولرائزیشن قرار دیاجاتا ہے۔


Share: